بنگلورو۔18؍نومبر(ایس او نیوز)مرکزی حکومت کی طرف سے اچانک ہزار اور پانچ سوروپیوں کے نوٹ منسوخ کئے جانے کا معاملہ آج بی بی ایم پی کونسل اجلاس میں کانگریس اور بی جے پی اراکین میں زبردست لفظی جھڑپ کا باعث بنا۔ کانگریس کے ایک کارپوریٹر سمپت کمار کے اس فقرہ پر کہ مرکزی حکومت نے ہزار اور پانچ سو روپیوں کے نوٹوں پر پابندی لگاکر غریب کو بھوکا رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ شہر میں پانی کے مسئلہ پر تبادلۂ خیال کیلئے طلب کی گئی خصوصی میٹنگ کے دوران سمپت کمار نے یہ تبصرہ کیاتو بی جے پی اراکین چراغ پا ہوگئے۔ بی جے پی اراکین نے کہاکہ پینے کے پانی کے مسئلے پر تبادلۂ خیال کیلئے طلب کردہ میٹنگ میں کانگریس رکن نے ایک غیر ضروری معاملہ اٹھانے کی جو کوشش کی ہے وہ درست نہیں۔ تاہم بی جے پی کے اعتراض کو نظر انداز کرتے ہوئے سمپت کمار نے دوبارہ جب یہ معاملہ اٹھانا چاہا تو بی جے پی کارپوریٹروں نے مطالبہ کیا کہ جب تک سمپت کمار معذرت خواہی نہیں کریں گے، کونسل کی کارروائی چلنے نہیں دی جائے گی۔ اس مرحلے میں میئر جی پدماوتی نے کہاکہ عوام کو جن مشکلات کا سامنا ہے کانگریس کارپوریٹر نے محض اس کی نشاندہی کی ہے، کسی پرتنقید نہیں۔ انہوں نے بی جے پی کارپوریٹروں کومتنبہ کیا کہ ہنگامہ آرائی کو چھوڑ کر وہ کونسل کی کارروائیاں چلانے میں تعاون کریں۔ اس مرحلہ میں بی جے پی کی سرسوتما نے کہاکہ 60 سال تک کانگریس ملک کو لوٹتی رہی۔ اس مرحلے میں میئر نے سرسوتما کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ اب ملک کو کون لوٹ رہا ہے وہ بھی جلد ہی سامنے آجائے گا۔ اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے کانگریس کارپوریٹر کے فقرہ پر کونسل میں انہیں بولنے کی اجازت کا مطالبہ کیا، جسے میئر نے مسترد کردیا۔ اس مرحلے میں پدمانابھاریڈی اپنے چند کارپوریٹروں کے ساتھ میئر کے سامنے آکر دھرنا دینے لگے۔ اس مرحلے میں مداخلت کرتے ہوئے حکمران پارٹی کے لیڈر محمد رضوان نواب ، کارپوریٹرس ستیہ نارائن ریڈی اور دیگر نے پدمانابھا ریڈی کو سمجھانے کی کوشش کی ، لیکن پدمانابھا ریڈی اس بات پر بضد رہے کہ فقرہ کسنے والے کارپوریٹر کو معافی مانگنی ہوگی۔ پدمانابھا ریڈی نے دعویٰ کیا کہ نوٹوں پر پابندی کا ملک کے عوام نے کھل کر خیر مقدم کیا ہے۔اس اقدام سے وہی لوگ ناراض ہیں ،جن کے پاس کالا دھن ہے۔ میئر نے اس مرحلے میں شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام کارپوریٹروں کو تاکید کی کہ اس میٹنگ میں صرف شہر میں پانی کے مسئلہ پر ہی بحث کی جائے گی کسی اور مسئلہ پر بات چیت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔میئر کے اتنا کہتے ہی تمام کارپوریٹرس اپنی کرسیوں پر لوٹ گئے۔